پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب الجنب يأكل
باب: جنبی کھانا کھائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ، غَسَلَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں «عن عروة أو أبي سلمة» (شک کے ساتھ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 223]
محمد بن صباح بزاز «حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري» کی سند سے اس کے ہم معنی مروی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ: ”اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں ہوتے ہوئے کچھ کھانا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے بواسطہ یونس اس کو روایت کیا تو کھانے کے قصے کو ان کا قول بنا دیا یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے، جبکہ صالح بن ابی الاخضر بواسطہ زہری وہی بیان کرتا ہے جو ابن مبارک نے کہا (یعنی نیند اور کھانے دونوں کا ذکر کیا) مگر اس سند میں شک ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت لینے والا عروہ ہے یا ابی سلمہ، اور اوزاعی نے بواسطہ «يونس، عن الزهري، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » اسی طرح روایت کیا ہے جیسے کہ ابن مبارک نے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17769) (صحیح)»
وضاحت: سنن نسائی میں کھانے کے ساتھ پینے کا بھی ذکر ہے (سنن نسائی حدیث ۲۵۸) اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جنبی آدمی کو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہییں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
زهري صرح بالسماع عند البغوي في شرح السنة (2/ 34)
زهري صرح بالسماع عند البغوي في شرح السنة (2/ 34)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥محمد بن الصباح الدولابي، أبو جعفر محمد بن الصباح الدولابي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 223 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 223
فوائد و مسائل:
سنن نسائی میں کھانے کے ساتھ پینے کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي‘حديث: 258]
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جنبی آدمی کو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئیں۔ تاہم عام حالات میں اگر ہاتھ صاف ہوں، تو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونے ضروری نہیں ہیں، تاہم مستحب (پسندیدہ) ضرور ہے۔
سنن نسائی میں کھانے کے ساتھ پینے کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي‘حديث: 258]
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جنبی آدمی کو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئیں۔ تاہم عام حالات میں اگر ہاتھ صاف ہوں، تو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونے ضروری نہیں ہیں، تاہم مستحب (پسندیدہ) ضرور ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 223]
Sunan Abi Dawud Hadith 223 in Urdu
يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري