صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. باب فضل رمضان - ذكر الزجر عن قول المرء صمت رمضان كله حذر تقصير لو كان وقع في صومه
رمضان کی فضیلت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی یہ کہے کہ اس نے پورا رمضان روزہ رکھا، تاکہ اگر اس کے روزے میں کوئی تقصیر ہوئی ہو تو اس سے بچا جائے
حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ"، قَالَ: فَلا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَمْ قَالَ:" لا بُدَّ مِنْ رَقْدَةٍ أَوْ غَفَلَةٍ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے میں نے پورا رمضان روزے رکھے اور پورا رمضان نوافل ادا کرتا رہا۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کا اظہار کرنے کو ناپسند کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمانا چاہیے کہ رمضان کے دوران آدمی کو سونا بھی چاہئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3430»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق على ابن خزيمة» (2075)، «ضعيف أبي داود» (417).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح