🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. باب السحور
سحری کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3460
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، بِهَرَاةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا، فَحَضَرَهُ الإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ، أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لا، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ، هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 187، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہوتا اور افطاری کا وقت قریب آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس پوری رات میں کچھ نہیں کھا سکتا تھا اور اس سے اگلے دن شام تک بھی کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت قریب آیا، تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، لیکن میں جا کر تلاش کرتی ہوں وہ اس دن کام کرتے رہے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جب ان کی بیوی ان کے پاس آئی اور اس نے انہیں اس حالت میں دیکھا، تو بولی: آپ کے لیے افسوس ہے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر غشی طاری ہو گئی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ تمہارے لیے روزے (یعنی رمضان) کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت کرنے کو حلال قرار دیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں۔ تو لوگ اس سے بہت خوش ہوئے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سفید دھاگہ تمہارے سامنے سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا جو صبح صادق ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3451»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3461
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَحَضَرَ الإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: أَعِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لا، وَلَكِنْ أَطْلُبُ، فَطَلَبَتْ لَهُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غَشِيَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، فَقَالَ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبِيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسُوَدِ مِنَ الْفَجْرِ .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوتا اور افطاری کا وقت آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس رات میں اور اس سے اگلے دن شام تک کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت قریب آیا، تو وہ اپنی بیوی کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے اس نے جواب دیا: جی نہیں، لیکن میں لے کر آتی ہوں وہ ان کے لیے کھانا لینے گئی وہ اس دن کام کرتے رہے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جب ان کی بیوی آئی، تو اس نے کہا: آپ پر افسوس ہے اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ تمہارے لیے روزے کی راتوں میں بیویوں کے ساتھ صحبت کرنا حلال قرار دیا گیا ہے اس پر لوگ بہت زیادہ خوش ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی: اور تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے تمہارے سامنے نمایاں نہیں ہو جاتا جس کا تعلق فجر سے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3452»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں