صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
50. باب السحور - ذكر الأمر بأكل السحور لمن يسمع الأذان للصبح بالليل
سحری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو صبح کی اذان رات کو سنے وہ سحور کھائے
حدیث نمبر: 3468
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلالٍ، أَوْ قَالَ: نِدَاءُ بِلالٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي بِلَيْلٍ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ، وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ"، وَقَالَ:" لَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا"، وَضَرَبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا،" حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا"، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بلال کی اذان تم میں سے کسی ایک شخص کو ہرگز نہ روکے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلال کی اذان آدمی کو اس کی سحری سے نہ روکے، کیونکہ وہ اس لیے اذان دیتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اعلان کرتا ہے، تاکہ نوافل ادا کرنے والا نوافل کو چھوڑ کر سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے اور وہ تمہارے سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صبح صادق اس طرح اور اس طرح نہیں ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے بلند کیا بلکہ وہ اس طرح ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر کے یہ فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3459»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2032): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
حدیث نمبر: 3469
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حدَّثنا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلا أَعْمَى، لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ: قَدْ أَصْبَحْتَ، قَدْ أَصْبَحْتَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْ يَرُوِ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنِدًا عَنْ مَالِكٍ إِلا الْقَعْنَبِيُّ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، وَقَالَ أَصْحَابُ مَالِكٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا۔“ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ابن ام مکتوم ایک نابینا شخص تھے۔ وہ اس وقت کے اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ کہا: نہیں جاتا تھا کہ صبح صادق ہو گئی ہے صبح صادق ہو گئی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت کو امام مالک کے حوالے سے مسند (یعنی متصل) حدیث کے طور پر صرف قعنبی اور جویریہ بن اسماء نے نقل کیا ہے امام مالک کے تمام دیگر شاگردوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ روایت زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے (یعنی یہ مرسل روایت ہے متصل نہیں ہے) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3460»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 235 / 219).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 3470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ بِلالاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہیں سنتے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3461»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح