صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
72. باب صوم الجنب - ذكر الخبر الدال على أن إباحة هذا الفعل المزجور عنه لم يكن المصطفى صلى الله عليه وسلم مخصوصا به دون أمته وإنما هي إباحة له ولهم
جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس منع کردہ فعل کی اجازت صرف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص نہیں تھی بلکہ ان کے اور ان کی امت کے لیے تھی
حدیث نمبر: 3492
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُدْرِكُنِي الصُّبْحُ وَأَنَا جُنُبٌ، أَفَأَصُومُ يَوْمِي ذَلِكَ؟ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رُبَّمَا أَدْرَكَنِيَ الصُّبْحُ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَقُومُ، وَأَغْتَسِلُ، وَأُصَلِّي الصُّبْحَ، وَأَصُومُ يَوْمِي ذَلِكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، إِنَّكَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي قَوْلِهِ:" إِنِّي أَرْجُو" دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ رَجَاءِ الإِنْسَانِ فِي الشَّيْءِ الَّذِي لا يُشَكُّ فِيهِ بِالْقَوْلِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الاسْتِثْنَاءِ فِي الإِيمَانِ عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات میں صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں، تو کیا میں اس دن روزہ رکھ لوں، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: بعض اوقات میں بھی صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں، لیکن میں اٹھ کر غسل کر لیتا ہوں اور صبح کی نماز ادا کرتا ہوں اور اس دن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اس شخص نے عرض کی آپ ہماری مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے، تو آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس چیز کے بارے میں جانتا ہوں جس کے ذریعے پرہیزگاری اختیار کی جا سکتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”مجھے یہ امید ہے“ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کسی ایسی چیز کے بارے میں لفظی طور پر امید کا اظہار کر سکتا ہے جس کے بارے میں اسے شک نہ ہو۔ اس میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے کہ قسم میں اس طریقے سے استثنیٰ کرنا مباح ہے جس کا ہم نے کتاب کے آغاز میں ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3483»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2067): م *. * [م] قال الشيخ: لم يَعزُه المعلِّق على الكتاب (8/ 266 - طبعة المؤسسة) لمسلم، وهو تَقصيرٌ فاحشٌ؛ لأنَّه عزاهُ لجمع دونه - منهم البيهقي -، وهذا نفسه قد عزاه لمسلم.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح