صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. باب صوم المسافر - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن الصوم في السفر غير جائز
مسافر کے روزے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3549
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَهَّابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، وَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ:" أُولَئِكَ الْعُصَاةُ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُولَئِكَ الْعُصَاةُ"، إِنَّمَا أَطْلَقَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِتَرْكِهِمُ الأَمْرَ الَّذِي أَمَرَهُمْ بِهِ، وَهُوَ الإِفْطَارُ، لا أَنَّهُمْ صَارُوا عُصَاةً بِصَوْمِهِمْ فِي السَّفَرِ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتحِ مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلند کیا، یہاں تک کہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نافرمان لوگ ہیں، وہ نافرمان لوگ ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ لوگ نافرمان ہیں“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یہ حکم دیا تھا تو انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تھا اور وہ حکم روزے کو ختم کرنے کا تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ سفر کے دوران روزہ رکھنے کی وجہ سے نافرمان ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1114، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2019، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2706، 3549، 3551، 3565، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1587، والترمذي فى (جامعه) برقم: 710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8243،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14732» «رقم طبعة با وزير 3541»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 57): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم