صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
143. باب صوم المسافر - ذكر العلة التي من أجلها أفطر صلى الله عليه وسلم في ذلك السفر
مسافر کے روزے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں افطار کیا
حدیث نمبر: 3565
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فِي رَمَضَانَ، فَاشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَهِيمُ بِهِ تَحْتَ ظِلالِ الشَّجَرِ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ فَأَفْطَرَ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ شَرِبَ شَرِبُوا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو گیا۔ اس کی اونٹنی اسے لے کر ایک درخت کے سائے میں چلی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا، تو آپ نے اسے روزہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا آپ نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا جب لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا کہ آپ نے پانی پی لیا ہے، تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا، (اور روزہ ختم کر دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3565]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3557»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح