صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
149. باب الصوم المنهي عنه - ذكر الزجر عن حمل المرء على نفسه من الصيام ما عسى يضعف عنه
ممنوع روزے کے بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے آپ پر اتنا روزہ لادے کہ وہ اس سے کمزور ہو جائے
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الُوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَلا تَفْعَلْ، نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنِّي مُخَيِّرُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا، فَإِذَا ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ"، قَالَ: فَشَدَدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ:" صُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلا تَزِدْ عَلَيْهِ"، قُلْتُ: فَمَا صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ؟ قَالَ:" نِصْفُ الدَّهْرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"، لَيْسَ فِي خَبَرٍ إِلا فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةَ إِفْطَارِ الْمَرْءِ لِضَيْفٍ يَنْزِلُ بِهِ، وَزَائِرٍ يَزُورُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو (رات کے وقت) تم سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو (دن کے وقت) نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے میں تمہیں یہ اختیار دے رہا ہوں کہ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی) قوت محسوس کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر ہفتے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے شدت کا مطالبہ کیا، تو مجھ پر شدت کی گئی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح روزے رکھو جس طرح اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام رکھا کرتے تھے تم اس سے زیادہ نہ رکھنا۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزہ رکھنے کا طریقہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نصف زمانہ (یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تمہارے ملاقاتی کا بھی تم پر حق ہے۔“ یہ الفاظ صرف اسی روایت میں منقول ہیں اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گھر میں کسی مہمان یا ملاقاتی کے آنے پر آدمی کے لیے (نفلی روزے) کو ختم کرنا مباح ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3563»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح