🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. فصل في صوم يوم عرفة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عمير مولى ابن عباس
یومِ عرفہ کے روزے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر عمیر مولى ابن عباس نے منفرد طور پر روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي شَأْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلابٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي حِجَّةِ الُوَدَاعِ كَانَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، وَكَذَلِكَ جَمَاعَةٌ مِنْ قَرَابَتِهِ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ أُمُّ الْفَضْلِ، وَمَيْمُونَةُ كَانَتَا بِعَرَفَاتٍ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، حَيْثُ حُمِلَ الْقَدَحُ مِنَ اللَّبَنِ مِنْ عِنْدَهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسِبَ الْقَدَحُ وَبَعْثَتُهُ إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ فِي خَبَرٍ، وَإِلَى مَيْمُونَةَ فِي آخَرَ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں کو عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں شک ہوا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (دودھ کا) پیالہ بھیجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت موقف میں وقوف کیے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، جبکہ لوگ (آپ کو) دیکھ رہے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ کے ساتھ تھیں۔ اسی طرح آپ کے رشتہ داروں کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا عرفات میں ایک ہی مقام پر موجود ہوں اور دودھ کا وہ پیالہ ان دونوں خواتین کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ہو تو ایک روایت میں اس پیالے اور اس کو بھیجنے کی نسبت سے سید ام فضل رضی اللہ عنہا کی طرف کر دی گئی اور دوسری روایت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف کر دی گئی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3598»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں