صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
218. باب صوم التطوع - ذكر ما يستحب للمرء أن يصوم يوم السبت والأحد إذ هما عيدان لأهل الكتاب
نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو روزہ رکھے کیونکہ یہ اہل کتاب کے عید کے دن ہیں
حدیث نمبر: 3646
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أَسْأَلَهَا: أَيُّ الأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَيَوْمُ الأَحَدِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيَّ، فَظُنُّوا أَنِّي لَمْ أَحْفَظْ فَرَدُّونِي، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ، فَقَالُوا: إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكِ فِي كَذَا وَكَذَا، فَزَعَمَ أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الأَحَدِ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الأَيَّامِ، وَيَقُولُ:" إِنَّهُمَا عِيدَانِ لِلْمُشْرِكِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمُ" .
کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کون سے دن میں روزہ رکھتے تھے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن میں ان لوگو کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید میں نے بات کو صیح طرح سے یاد نہیں رکھا۔ انہوں نے دوبارہ مجھے بھیجا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی کی مانند جواب دیا میں نے ان لوگوں کو آ کر بتایا، تو وہ سب لوگ خود اٹھے اور (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے) انہوں نے بتایا: ہم نے اس مسئلے کے بارے میں (اس شخص کو) آپ کی خدمت میں بھیجا تھا اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے یہ جواب دیا ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر ہفتے کے دن اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں مشرکین کے عید کے دن ہیں (وہ ان دنوں میں کھاتے پیتے ہیں) تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3646]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3638»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر (3607). تنبيه!! رقم (3607) = (3616) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن