صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
254. باب الاعتكاف وليلة القدر - ذكر البيان بأن ليلة القدر تكون في رمضان في العشر الأواخر كل سنة إلى أن تقوم الساعة
اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس بات کا بیان کہ لیلة القدر ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو
حدیث نمبر: 3683
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَلَسْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الُوُسْطَى، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَيْهِ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ أَنَا كُنْتُ اسْأَلُ النَّاسَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ تَكُونُ فِي زَمَانِ الأَنْبِيَاءِ، يَنْزِلُ عَلَيْهِمُ الُوَحِيُ، فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ؟ فَقَالَ:" بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي فِي أَيِّ الشَّهْرِ هِيَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَوْ أَذِنَ لأَخْبَرْتُكُمْ بِهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي إِحْدَى السُّبُعَيْنِ، وَلا تَسْأَلْنِي عَنْهَا بَعْدَ مَرَّتِكَ هَذِهِ"، قَالَ: وَأَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ يُحَدِّثُهُمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَطْلَقَ بِهِ الْحَدِيثُ، فَقُلْتُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فِي أَيِّ السُّبُعَيْنِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" لا أُمَّ لَكَ، هِيَ تَكُونُ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ" .
مرثد بن ابومرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں درمیانی جمرہ کے پاس سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا میں ان کے قریب ہوا، یہاں تک کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں کو چھونے لگے۔ میں نے کہا: آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ دریافت کیا ہے: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں کیا یہ صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے۔ جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور جب ان کا انتقال ہو جائے، تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ قیامت تک ہوتی رہے گی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بتائیں یہ کون سے مہینے میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی، تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا تم اسے آخری عشرے میں سات راتوں میں سے کسی ایک میں تلاش کرو، اس کے بعد تم مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے جب میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بات چیت میں مشغول ہیں، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اس بارے میں بتائیں کہ ان دو ہفتوں میں سے کسی میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر شدید غضب ناک ہوئے آپ اس طرح مجھ پر کبھی غصہ نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں نہ رہے یہ آخری ہفتے میں ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3683]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3675»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق على ابن خزيمة» (3/ 320 و 321).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف