صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
58. باب فضل المدينة - ذكر رجاء نوال المرء المسلم بالطاعة روضة من رياض الجنة إذا أتى بها بين القبر والمنبر
مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ قبر اور منبر کے درمیان طاعت سے مسلمان کے لیے جنت کے باغات میں سے ایک باغ کی امید رکھی جاتی ہے
حدیث نمبر: 3750
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: خِطَابُ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ الشَّيْءِ الْمَقْصُودِ عَلَى سَبَبِهِ، فَلَمَّا كَانَ الْمُسْلِمُ إِذَا تَقَرَّبَ إِلَى بَارِئِهِ جَلَّ وَعَلا بِالطَّاعَةِ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُجِيَ لَهُ قَبُولُهَا، وَثَوَابُهُ عَلَيْهَا الْجَنَّةُ، أَطْلَقَ اسْمَ الْمَقْصُودَ الَّذِي هُوَ الْجَنَّةِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْمِنْبَرِ، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ:" رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ"، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي"، لِرَجَاءِ الْمَرْءِ نَوَالَ الشُّرْبِ مِنَ الْحَوْضِ، وَالتَّمَكُّنِ مِنْ رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ بِطَاعَتِهِ فِي الدُّنْيَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ"، لَمَّا كَانَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي وَقْتِ عِيَادَتِهِ يُرْجَى لَهُ بِهَا التَّمَكُّنُ مِنْ مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ وَهُوَ الْمَقْصُودُ، أَطْلَقَ اسْمَ ذَلِكَ الْمَقْصُودِ عَلَى سَبَبِهِ، وَنَحْوُ هَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ"، وَلِهَذَا نَظَائِرٌ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات میں جو الفاظ منقول ہیں اس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں بعض اوقات کسی مقصود چیز کا اسم اس کے سبب کے لیے استعمال کر لیتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر کے اس کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی امید ہوتی ہے، تو یہاں مقصود کے اسم کو جو جنت ہے اس کے سبب کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور وہ منبر ہے، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جنت کے باغوں میں سے ایک باغ“، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرا منبر میرے حوض پر ہے“، اس سے مراد یہی ہے کہ آدمی کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ حوضِ کوثر سے مشروب حاصل کرے گا اور جنت کے باغات میں پہنچے گا۔ دنیا میں اس جگہ پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے (وہاں پہنچے گا) یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مانند ہو گا: ”بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے“، تو جب بیمار کی عیادت کرنے والا شخص اپنی عیادت کے وقت میں ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے باغ میں پہنچنے کی امید کی جا سکتی ہے اور یہی مقصود ہے، تو یہاں مقصود کا اسم اس کے سبب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“، اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم عنقریب اس کتاب میں آگے چل کر نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1196، 1888، 6588، 7335، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1391، ومالك فى (الموطأ) برقم: 671، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3750، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4274، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3915، 3916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10390، 10398، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7343» «رقم طبعة با وزير 3742»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «ظلال الجنة» (731): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين