🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. باب فضل المدينة - ذكر الزجر عن أن يعضد شجر حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم
مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کے درختوں کو کاٹا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3752
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرَّبْعِيِّ أَنَّهُ، سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: لَنَا غَنَمٌ وَغِلْمَانٌ، وَهُمْ يُخَبِّطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ الْحُبْلَةَ، وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمَرِ؟، فَقَالَ جَابِرُ: لا، ثُمَّ قَالَ: لا يُخْبَطُ، وَلا يُعْضَدُ مُحْرِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْهانَا أَنْ نَقْطَعَ الْمَسَدَ وَمِرْوَدَ الْبَكَرَةِ" .
حارث بن رافع بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا وہ بولے: ہماری بکریاں بھی ہیں اور بال بچے بھی ہیں، تو ان بال بچوں نے اپنی ان بکریوں کو پتے توڑ کر دینے ہوتے ہیں اور جو اس سمر کے درخت کے ہوتے ہیں، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہاں کے پتوں کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کے (درخت کو) کاٹا نہیں جائے گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے، البتہ تم لوگ آرام سے جھاڑ سکتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3752]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3752، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2039، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10091، 10092، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3775» «رقم طبعة با وزير 3744»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1777): م - أبي سعيد نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں