🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر الإخبار عن تمام حج الواقف بعرفة من حين يصلي الأولى والعصر بعرفات إلى طلوع الفجر من ليلته قل وقوفه بها أم كثر
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ عرفات میں وقوف کرنے والے کا حج اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ ظہر اور عصر عرفات میں پڑھے، چاہے اس کا وقوف کم ہو یا زیادہ، فجر طلوع ہونے تک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3850
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لامٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ؟، قَالَ: " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا، أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ" .
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مزدلفہ میں موجود تھے میں نے عرض کی: کیا مجھ پر حج کرنا لازم ہے (یعنی میرا حج ہو گیا ہے یا میں دوبارہ کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ روانہ ہونے تک اس جگہ پر وقوف کیے رہا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے رات کے وقت یا دن کے وقت روانہ ہو چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو پورا کر لیا اور اپنی نذر کو مکمل کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 514، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3850، 3851، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1706، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1950، والترمذي فى (جامعه) برقم: 891، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1930، 1931، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9563، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2514، 2515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16458، والحميدي فى (مسنده) برقم: 924» «رقم طبعة با وزير 3839»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1704).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں