سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. باب فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ،" فِي غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ".
سعید بن عبدالعزیز سے «غسل واغتسل» کے بارے میں مروی ہے، ابومسہر کہتے ہیں کہ سعید کا کہنا ہے کہ «غسل واغتسل» کے معنی ہیں: وہ اپنا سر اور اپنا بدن خوب دھلے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 350]
سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (تنوخی، تبع تابعی) نے «غسل و اغتسل» کی شرح میں کہا کہ: ”جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18691) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا پھر (پہلی گھڑی میں) جمعہ کے لیے (مسجد) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آ جاتے ہیں اور ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 351]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت (یا جنابت جیسا غسل) کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا گویا اس نے ایک اونٹ قربان کیا۔ اور جو دوسری ساعت میں آیا اس نے گویا گائے قربان کی اور جو تیسری ساعت میں پہنچا اس نے گویا سینگوں والا مینڈھا قربان کیا۔ جو چوتھی ساعت میں آیا اس نے گویا مرغی تقرب کے لیے پیش کی اور جو پانچویں ساعت میں آیا اس نے گویا انڈا تقرب کے لیے پیش کیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے بھی ذکر سننے کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 4 (881)، وبدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن الترمذی/الجمعة 6 (499)، سنن النسائی/1708، من الکبریٰ، (تحفة الأشراف: 12569)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 59 (865)، والجمعة 13 (1386)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 82 (1092)، موطا امام مالک/الجمعة 1(1)، مسند احمد (2/239، 259، 280، 505، 512)، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1585) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (881) صحيح مسلم (850)