🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

185. باب رمي الجمار أيام التشريق - ذكر وصف رمي المرء الجمار ووقوفه حينئذ إلى أن يرميها
ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - آدمی کے جمرات کی رمی اور اس وقت اس کے کھڑے ہونے کی صفت کا ذکر جب تک کہ وہ رمی کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3887
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الأُولَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلا الْقِبْلَةَ قِيَامًا طَوِيلا فَيَدْعُو، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ پہلے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے تھے، ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے، پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے، وہ طویل قیام کرتے اور دعا مانگتے تھے، دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے، پھر ذات عقبہ والے جمرہ کو وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں مارتے تھے، وہ اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے، پھر واپس آ جاتے تھے اور یہ کہتے تھے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1751، 1752، 1753، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1527، 1529، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2972، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3887، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1763، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3083، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4075، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3032، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9646، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6052» «رقم طبعة با وزير 3876»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2073) «صحيح أبي داود» (1722): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں