صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
197. فصل - ذكر البيان بأن المرأة الحائض إنما رخص لها أن تنفر من غير أن يكون عهدها بالبيت إذا كانت طافت قبل ذلك
- اس بات کا بیان کہ حیض والی عورت کو اس وقت رخصت ہے کہ وہ نفر کرے جب کہ اس نے اس سے پہلے طواف کیا ہو، بغیر اس کے کہ اس کا آخری عمل بیت اللہ سے ہو
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلا حَابِسَتَنَا، قَالَ:" مَا شَأْنُهَا؟"، قُلْتُ: حَاضَتْ، قَالَ:" أَمَا كَانَتْ طَافَتْ قَبْلَ ذَلِكَ؟"، قُلْتُ: بَلَى، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ، قَالَ:" فَلا حَبْسَ عَلَيْهَا فَلْتَنْفِرْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اسے کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کی: انہیں حیض آ گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ پہلے طواف نہیں کر چکی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں، لیکن انہیں حیض آ گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کا رکنا ضروری نہیں ہے وہ روانہ ہو سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3889»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1748): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين