🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

224. باب التمتع - ذكر البيان بأن الإحلال إنما أبيح لمن لم يسق الهدي معه في الابتداء
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ احلال کی اجازت صرف اس کے لیے ہے جو شروع میں ہدی ساتھ نہ لائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ، عَنْ عُمَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ إِلا أَنْ يَكُونَ سَاقَ هَدْيًا"، قَالَتْ: وَأَتَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالُوا:" ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ذیقعدہ ختم ہونے میں پانچ دن رہ گئے تھے۔ تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا جو شخص بیت اللہ کا طواف کر چکا ہو وہ احرام کھول دے، البتہ وہ شخص نہیں کھولے گا، جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: اللہ کے رسول نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) ذبح کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3917»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں