🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

143. باب الإِعَادَةِ مِنَ النَّجَاسَةِ تَكُونُ فِي الثَّوْبِ
باب: نجس کپڑے میں ادا کی جانے والی نماز کے دہرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ: اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ، فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا ثُمَّ أَجْفَفْتُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهِيَ عَلَيْهِ".
ام یونس بنت شداد کہتی ہیں کہ میری ساس ام جحدر عامریہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور ہم اپنا شعار (اندر کا کپڑا) پہنے ہوئے تھے، اس کے اوپر سے ہم نے ایک کمبل ڈال لیا تھا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمبل کو اوڑھ کر (نماز کے لیے) چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ خون کا نشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آس پاس کے حصہ کو مٹھی سے پکڑ کر غلام کے ہاتھ میں دے کر اسی طرح میرے پاس بھیجا اور فرمایا: ”اسے دھو کر اور سکھا کر میرے پاس بھیج دو“، چنانچہ میں نے پانی کا اپنا پیالہ منگا کر اس کو دھویا پھر سکھایا، اس کے بعد آپ کے پاس واپس بھجوا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت وہی کمبل اوڑھے تشریف لائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 388]
ام یونس بنت شداد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے میری نند ام جحدر عامریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کے خون کے متعلق پوچھا جو کپڑے کو لگ جاتا ہے، تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، ہم پر ہمارا کپڑا تھا، اس کے اوپر ہم نے ایک اونی چادر ڈالی ہوئی تھی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر والی چادر اوڑھ لی اور نماز کے لیے تشریف لے گئے اور فجر کی نماز پڑھی، پھر بیٹھ رہے۔ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ خون کا داغ ہے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے اس حصے کو جس پر داغ تھا پکڑ لیا، اور ایک غلام کو دے کر میرے پاس بھیجا اور فرمایا: ”اسے دھو کر خشک کرو اور میرے پاس واپس بھیج دو۔“ چنانچہ میں نے اپنا پیالہ منگوایا، اس چادر کو دھویا اور خشک کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس بھیج دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/250) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی دو راویہ ام جحدر اور ام یونس مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم يونس وأم جحدر: لا يعرف حالھما (تقريب: 8782،8709)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں