صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
315. باب الهدي - ذكر الإخبار عن نفي جواز أكل سائق البدن المنحورة إذا بقيت وأهل رفقته كذلك
ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ بدنہ کے سائس اور اس کے رفقاء کے لیے نحر کیے ہوئے بدنہ کا کھانا جائز نہیں اگر وہ باقی رہے
حدیث نمبر: 4025
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانٌ معتمرين، وانطلق سنان معه ببدنة يسوقها، فأزحفت عليه في الطريق، فقال لئن قدمنا البلد لأستفتين عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَصْبَحْتُ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلَقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَانْطَلَقْنَا، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطَتْ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، وَأَمَرَهُ فِيهَا، فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا يُبْدِعُ عَلَيَّ مِنْهَا؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ" .
موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اور سنان عمرہ کرنے کیلئے روانہ ہوئے سنان اپنے ہمراہ قربانی کا جانور بھی لے کر گئے تھے جسے وہ ساتھ لے کر چل رہے تھے راستے میں کسی مقام پر وہ جانور آگے چلنے کے قابل نہ رہا تو سنان نے کہا: اگر ہم کسی شہر پہنچ گئے تو ہم اس بارے میں مسئلہ دریافت کر لیں گے۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن ہم نے وادی بطحاء میں پڑاؤ کیا انہوں نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں، تو ہم لوگ گئے ہم نے ان کے قربانی کے جانور کا معاملہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم نے صاحب علم شخص سے دریافت کیا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کے ہمراہ سولہ اونٹ بھیجے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس صاحب کو ہدایت کی وہ صاحب چلے گئے پھر وہ واپس آئے انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کوئی جانور میرے لیے بوجھ بن جائے (یعنی آگے جانے کے قابل نہ رہے) تو میں کیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قربان کرو پھر اس کے (گلے میں موجود ہار کے) جوتے اس کے خون میں رنگین کر کے اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو تم خود اس کے گوشت کو نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی اس کا گوشت نہ کھائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1325، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1416، وابن الجارود فى "المنتقى"، 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) 4/262، بدون ترقيم، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4024، 4025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1763، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1894، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15578» «رقم طبعة با وزير 4014»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم