صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. - ذكر وصف تزويج المصطفى صلى الله عليه وسلم أم سلمة
- ذکر اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے شادی کیسے کی
حدیث نمبر: 4065
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا، أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ، أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ، أَنَّهَا بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةَ، فَكَذَّبُوهَا، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، ثُمَّ أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبْتُ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، فَقَالَتْ: لَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنِي، فَقُلْتُ: مَثَلِي لا يُنْكَحُ، أَمَا أَنَّا، فَلا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ"، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ"، قَالَتْ: فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرَّتِي، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُ لَهُ، قَالَ: فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنَّ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعُ لِنِسَائِي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ امیہ بن مغیرہ کی صاحب زادی ہیں، لوگوں نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور وہ لوگ یہ کہنے لگے: یہ کیسی عجیب و غریب غلط بیانی ہے! پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: کیا تم اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھ دو گی؟ تو میں نے ان لوگوں کو خط لکھ کر دے دیا، جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کی تصدیق کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عزت و احترام میں اضافہ ہو گیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میرے ہاں زینب کی پیدائش ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کی: مجھ جیسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے مزاج میں کچھ تیزی بھی ہے، میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے عمر میں بڑا ہوں، جہاں تک مزاج کی تیزی کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے گا، جہاں تک بال بچوں کا تعلق ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی تھیلی میں موجود کچھ جو کے دانے نکالے اور کچھ چربی نکالی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسے تیار کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک معزز حیثیت کی مالک ہو، اگر تم چاہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہتا ہوں، اگر میں سات دن تمہارے پاس رہا تو اپنی دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4065]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 918، 1460، وابن الجارود فى "المنتقى"، 766، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2949، 4065، 4210، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2750، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2122، 3119، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3511، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1598، 1917، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3733، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16602» «رقم طبعة با وزير 4053»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2019).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
حدیث نمبر: 4066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْلِنُوا النِّكَاحَ" ، قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَعْنَاهُ: أَعْلِنُوا بِشَاهِدَيْنِ عِدْلَيْنِ.
عامر بن عبداللہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نکاح کا اعلان کرو۔“ شیخ بیان کرتے ہیں: روایت کے لفظ ”تم لوگ اعلان کرو“ اس کا مطلب یہ ہے: دو عادل گواہوں کی موجودگی میں (ایجاب و قبول کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4066، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2764، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16380، والبزار فى (مسنده) برقم: 2214، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14818، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5145» «رقم طبعة با وزير 4054»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الآداب» (193)، «المشكاة» (3152)، «الإرواء» (1993).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن