صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
59. - باب الولي - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير بن مطعم
ولی کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر عبد اللہ بن فضل نے نافع بن جبیر بن مطعم سے منفرد طور پر روایت کی
حدیث نمبر: 4089
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ لِوَلِيٍّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمَرٌ"، يُبَيِّنُ لَكَ صِحَّةَ مَا ذَهَبْنَا إِلَيْهِ، أَنَّ الرِّضَا وَالاخْتِيَارَ إِلَى النِّسَاءِ، وَالْعَقْدُ إِلَى الأَوْلِيَاءِ، لِنَفْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَلِيِّ انْفِرَادَ الأَمْرِ دُونَهَا إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا، لأَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فِي بِضْعِهَا، وَالرِّضَا بِمَا يُعْقَدُ عَلَيْهَا، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ" أَرَادَ بِهِ تُسْتَرْضَى فِيمَنْ عُزِمَ لَهُ عَلَى الْعَقْدِ عَلَيْهَا، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِقْرَارُهَا، ثُمَّ يَتَرَبَّصُ بِالْعَقْدِ إِلَى الْبُلُوغِ، لأَنَّهَا وَإِنْ صَمَتَتْ وَأَذِنَتْ، لَيْسَ لَهَا أَمَرٌ وَلا إِذْنٌ، إِذِ الأَمْرُ وَالإِذْنُ لا يَكُونَا إِلا لِلْبَالِغَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے اور کنواری لڑکی سے مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے“ یہ چیز آپ کے سامنے اس موقف کے درست ہونے کو بیان کر دے گی، جس کے ہم قائل ہیں کہ رضامندی اور اختیار کرنے کا معاملہ خواتین کے سپرد ہو گا اور نکاح کے عقد کو منعقد کروانے کا معاملہ اولیاء کے سپرد ہو گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثیبہ عورت کی مرضی کے بغیر ولی کے انفرادی طور پر ایسا کرنے کی نفی کی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی شادی کے بارے میں عورت کو اختیار حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ جس کے ساتھ اس کا عقد نکاح کروایا جا رہا ہے اس پر رضامندی (کا اظہار کرے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی“ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ اس کی شادی کرنے کا ارادہ ہے اس کے بارے میں اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہتی ہے تو یہ اس کا اقرار شمار ہو گا، پھر اس کے عقد کے معاملے کو اس کے بالغ ہونے تک ایسے ہی رکھا جائے گا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ خاموش رہی ہے اور اس نے اجازت دے دی ہے، لیکن پھر بھی اسے ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق صرف بالغ لڑکی کو حاصل ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4084، 4087، 4088، 4089، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3260، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2098، 2100، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1108، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1870، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 556، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13778، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3575، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1913، والحميدي فى (مسنده) برقم: 527» «رقم طبعة با وزير 4077»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1830).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين