🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه يضاد الأخبار التي تقدم ذكرنا لها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ:" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ"، أَرَادَ بِهِ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، كَمَا تَسْتَعْمِلُ الْعَرَبُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا، فَتَقُولُ لِمَنْ دَخَلَ النَّجْدَ: أَنْجَدَ، وَلِمَنْ دَخَلَ الظُّلْمَةَ: أَظْلَمَ، وَلِمَنْ دَخَلَ تِهَامَةَ: أَتْهَمَ، أَرَادَ أَنَّهُ كَانَ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا بِنَفْسِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ الأَخْبَارُ الَّتِي قَدَّمْنَا، وَالْخَبَرُ الْفَاصِلُ بَيْنَهُمَا الَّذِي يَرْدُفُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی تو اس وقت آپ حالت احرام میں تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی آپ اس وقت حالت احرام میں تھے اس کے ذریعے ان کی مراد یہ ہے: حرم کی حدود کے اندر تھے اس سے مراد یہ نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میں احرام باندھے ہوئے تھے جس طرح عرب اپنے محاور ے میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، تو جو شخص نجد (کی حدود) میں داخل ہو اس کے لیے لفظ استعمال کرتے ہیں وہ نجد میں داخل ہو گیا جو شخص تاریکی میں داخل ہو گیا اس کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں وہ تاریکی میں داخل ہو گیا جو شخص تہامہ کی حدود میں داخل ہو وہ اس کے لیے لفظ استعمال کرتے ہیں وہ تہامہ کی حدود میں آ گیا اس کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی حدود کے اندر تھے اس سے یہ مراد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام بھی باندھا ہوا تھا اور اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل وہ روایات ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اور وہ روایت جو ان دونوں کے درمیان فصل پیدا کرتی ہے وہ آگے آ رہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4117»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1617): (4/ 227): ق. * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ ... لاَ أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا بِنَفْسِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ] قال الشيخ: قلت: هذا التأويل خلاف الظاهر؛ بل هو باطلٌ، تردُّه رواية يعلى بن حكيم، عن عكرمة عن ابن عبَّاس: أَنَّه كان لا يرى بأساً أن يتزوَّج الرجل وهو محرم، ويقول: إِنَّ نَبِيَّ الله تزوَّج ميمونة بماء - يقال له: سَرِفْ - وهو مُحرم، فلمَّا قضى نبيُّ الله حجَّته - وفي رواية نسكه - أقبل، حتَّى إذا كان بذلك الماء؛ أعرسَ بِهَا. أخرجه أحمد (1/ 275 و 286 و 336)، وسنده صحيح. وفي روايةٍ له (1/ 331) مِنْ طريق سعيد بن جُبير، عَنِ ابن عبَّاسٍ، قال: تزوَّج النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وهو مُحرمٌ، واحتجمَ وهو مُحرمٌ. وسنده صحيح. ويَشهدُ له حديثُ عائشةَ - الآتي عند المؤلِّف (4120) -. فهل معنى: احتجم وهو محرم؛ أي: داخل الحرم وهو حلال؟!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں