🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

118. - باب نكاح الكفار
کفار سے نکاح کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي أُخْتَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ" .
ضحاک بن فیروز اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں نے اسلام قبول کیا اس وقت دو بہنیں میرے نکاح میں تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان دونوں میں سے جسے چاہو طلاق دے دو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4155، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1129، 1130، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1950، 1951، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14169، 14171، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3695، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18325» «رقم طبعة با وزير 4143»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (1940).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4156
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا" ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمَعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ، فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لا تَمْكُثَ إِلا قَلِيلا، وَايْمُ اللَّهِ لَتَرُدَّنَّ نِسَاءَكَ، وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكِ، أَوْ لأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ، وَلآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ، فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ.
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس ہیویاں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد حکومت آیا تو انہوں نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی اور اپنا مال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر دیا جب اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور بولے: میرا یہ خیال ہے شیطان چوری چھپے جو باتیں سنتا ہے ان میں سے اس نے تمہاری موت کی بات بھی سن لی ہے اور یہ چیز تمہارے ذہن میں ڈال دی ہے ہو سکتا ہے اب تم تھوڑا عرصہ زندہ رہو اللہ کی قسم! یا تو تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو اور اپنا مال واپس لے لو یا میں ان خواتین کو تمہارا وارث قرار دوں گا اور تمہاری قبر کے بارے میں حکم جاری کروں گا اور اسے یوں سنگسار کیا جائے گا، جس طرح ابورغال کی قبر کو سنگسار کیا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4156]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4156، 4157، 4158، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2795، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1128، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1953، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1868، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13957، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4699» «رقم طبعة با وزير 4144»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1883).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں