🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

129. - باب معاشرة الزوجين - ذكر كتابة الله جل وعلا الصدقة للمسلم بمواقعة أهله
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمان کے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنے پر بھی صدقہ لکھا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ؟، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ" ، هَذَا خَبَرٌ أَصْلٌ فِي الْمُقَايَسَاتِ فِي الدِّينِ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کے صحبت کرنے سے بھی صدقے کا ثواب ملتا ہے“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس کو اس میں بھی اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسے ناجائز طریقے سے پورا کرتا تو اسے اس کا گناہ ہوتا؟ اسی طرح اگر وہ اسے جائز طریقے سے پورا کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دینی معاملات میں قیاس کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں یہ روایت اصول کی حیثیت رکھتی ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 720، 1006، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 748، 1225، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 474، 529، 838، 3377، 4167، 4192، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8978، 8979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1285، 1286، 5243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1956، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 927، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21760، والحميدي فى (مسنده) برقم: 133» «رقم طبعة با وزير 4155»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (454)، «غاية المرام» (25 - 26): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں