سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فِيمَا يَقُولُهُ الرَّجُلُ عِنْدَ دُخُولِهِ الْمَسْجِدَ
باب: آدمی جب مسجد میں داخل ہو تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، أَوْ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، فَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ".
ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 465]
جناب عبدالملک بن سعید بن سوید، ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یا ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھے پھر کہے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب باہر نکلے تو کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل و عنایت کا سوال کرتا ہوں۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 10 (713)، سنن النسائی/المساجد 36 (730)، (تحفة الأشراف: 11196)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 13 (772)، مسند احمد (5/ 425) سنن الدارمی/الصلاة 115 (1434)، والاستئذان 56 (772) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (713 ولم يذكر: فليسلم علي النبيﷺ)
حدیث نمبر: 466
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ حَدَّثْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، قَالَ: أَقَطُّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ، قَالَ الشَّيْطَانُ: حُفِظَ مِنِّي سَائِرَ الْيَوْمِ.
حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے: «أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم» (میں اللہ عظیم کی، اس کی ذات کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں) تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 466]
جناب حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں عقبہ بن مسلم سے ملا اور ان سے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی سند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو کہا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو انتہائی عظمت والا ہے، میں اس کے انتہائی محترم چہرے کی پناہ لیتا ہوں اور اس کے سلطانِ قدیم کی پناہ لیتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”بس اتنا ہی؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا کہ انسان جب یہ کہہ لیتا ہے تو ابلیس کہتا ہے: ”آج سارے دن کے لیے یہ مجھ سے محفوظ ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8890) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (749)
مشكوة المصابيح (749)