صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
- دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 4214
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ سَالِمًا يُدْعَى لأَبِي حُذَيْفَةَ وَيَأْوِي مَعَهُ وَيَدْخُلُ عَلَيَّ فَيَرَانِي فُضُلا، وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ، وَقَالَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سہلہ بنت سہیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سالم کو سیدنا ابوحذیفہ کے منہ بولے: بیٹے کے طور پر بلایا جاتا ہے وہ ان کے ساتھ رہتا ہے وہ میرے پاس بھی آ جاتا ہے مجھے (سر پر چادر وغیرہ کی موجودگی کے بغیر) دیکھ لیتا ہے ہمارا گھر بھی چھوٹا سا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان کو ان کے حقیقی باپ کے حوالے سے بلاؤ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ انصاف کے زیادہ مطابق ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دودھ پلا دو تم اس کے لیے حرمت والی ہو جاؤ گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4000، 5088، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1453، وابن الجارود فى "المنتقى"، 747، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4213، 4214، 4215، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2707، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2061، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2303، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12656، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24742» «رقم طبعة با وزير 4201»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1799): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما