صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. ذكر ما يذهب مذمة الرضاع عمن قصر به فيه-
- اس بات کا ذکر جو رضاعت کی مذمت کو اس سے دور کرتا ہے جو اس میں کوتاہی کرتا ہے
حدیث نمبر: 4230
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذِمَّةَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ:" الْغُرَّةُ: الْعَبْدُ أَوِ الأَمَةُ" .
حجاج بن حجاج اسلمی اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں دودھ پینے کے حق کو کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک پیشانی یعنی غلام یا کنیز (کو معاوضے کے طور پر ادا کر کے تم اس کا حق ادا کر سکتے ہو) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4230]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4230، 4231، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3329، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2064، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1153، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15974، والحميدي فى (مسنده) برقم: 901» «رقم طبعة با وزير 4216»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (351)، «المشكاة» (3174).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null