صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. باب النفقة - ذكر الإباحة للمرأة أن تأخذ من مال زوجها لعياله بالمعروف من غير علمه-
نفقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت اپنے شوہر کے علم کے بغیر اس کے مال سے اپنے اہل و عیال کے لیے معروف طریقے سے لے
حدیث نمبر: 4256
سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ أَبَا بَكْرٍ بِوَاسِطَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ مُضَيِّقٌ عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لا يَشْعُرُ؟ قَالَ: " خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ، وَهُوَ لا يَشْعُرُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی: ابوسفیان نے مجھ پر اور میری اولاد پر (خرچ کے حوالے سے تنگی کی ہوئی ہے تو کیا میں ان کے مال میں سے ان کی لاعلمی میں کچھ حاصل کر سکتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی لاعلمی میں اس کے مال میں سے مناسب طور پر لے لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4256]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2211، 2460، 3825، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1714، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1101، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4255، 4256، 4257، 4258، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3532، 3533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13536، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4564، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24751، والحميدي فى (مسنده) برقم: 244» «رقم طبعة با وزير 4242»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح