صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب النفقة - ذكر الإباحة للمرأة أن تأخذ من مال زوجها بغير علمه مقدار ما تنفقه عليها وعلى ولدها من غير حرج يلزمها في ذلك-
نفقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت اپنے شوہر کے علم کے بغیر اس کے مال سے اپنے اور اپنے بچے کے نفقہ کے لیے لے، بغیر اس پر کوئی حرج ہونے کے
حدیث نمبر: 4258
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أُصِيبَ مِنْ مَالِهِ فَأُنْفِقَ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي؟ فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تَأْخُذِي مِنْ مَالِ أَبِي سُفْيَانَ فَتُنْفِقِيهِ عَلَيْكِ وَعَلَى وَلَدِكِ بِالْمَعْرُوفِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابوسفیان کی اہلیہ ہند نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں ان کا کچھ مال حاصل کر کے اسے اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر خرچ کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم ابوسفیان کا مال لے کر اسے اپنے اوپر اور اپنی اولاد پر مناسب طریقے سے خرچ کرتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2211، 2460، 3825، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1714، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1101، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4255، 4256، 4257، 4258، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3532، 3533، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13536، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4564، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24751، والحميدي فى (مسنده) برقم: 244» «رقم طبعة با وزير 4244»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي