صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر البيان بأن الأمة المزوجة إذا أعتقت كان لها الخيار في الكون تحت زوجها العبد أو فراقه-
- اس بات کا بیان کہ اگر زوجہ باندی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہے یا اس سے جدا ہو
حدیث نمبر: 4269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلاءَ، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " اشتريها وأعتقيها، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَتْ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كُلُوا فَإِِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے سامنے آئے؛ ان کے مالکان نے انہیں فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور ان کی ولاء کی شرط عائد کی، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ پھر بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہو گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں) تو انہوں نے اپنی ذات کو اختیار کیا (تیسری بات یہ ہے کہ) بریرہ رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز صدقہ دی جاتی تھی، تو وہ اس میں سے کوئی چیز ہمیں تحفے کے طور پر دے دیتی تھیں، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہے اور یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 456، 1493، 2155، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1075، وابن الجارود فى "المنتقى"، 802، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4269، 4271، 4272، 4325، 4326، 5115، 5116، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2613،وأبو داود فى (سننه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2074، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 279، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10954، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2871، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24687» «رقم طبعة با وزير 4255»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم