صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر الخبر المصرح بأن زوج بريرة كان عبدا لا حرا-
- اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، آزاد نہیں
حدیث نمبر: 4273
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ، أَلا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا"، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ". قَالَتْ: فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک غلام تھا، اس کا نام مغیث تھا، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ وہ ان کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا ناپسند کرتی ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے۔“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ تو اس خاتون نے کہا: مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن الجارود فى "المنتقى"، 801، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4270، 4273، 5120، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1156، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2075، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1257، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14378، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2140، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1869» «رقم طبعة با وزير 4259»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1933): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم