سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب النَّهْىِ عَنِ الصَّلاَةِ، فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ
باب: اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ (باڑے) میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں نماز پڑھو، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 493]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے باڑوں میں نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں نماز نہ پڑھا کرو، بلاشبہ یہ شیاطین میں سے ہیں۔“ اور بکریوں کے باڑوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں نماز پڑھ لیا کرو، بلاشبہ یہ بابرکت ہوتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 184، (تحفة الأشراف: 1783، 1686) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان میں شیطانی خصلتیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد عند مسلم (360) وانظر الحديث السابق (184)
وللحديث شاھد عند مسلم (360) وانظر الحديث السابق (184)