صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. باب العتق في المرض - ذكر ما يحكم لمن أعتق عبيدا له عند موته لا مال له غيرهم-
مرض میں غلام آزاد کرنے کا باب - جو شخص بیماری میں غلام آزاد کرے اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی مال نہ ہو تو اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 4320
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَجُلا كَانَ لَهُ سِتَّةُ أَعْبُدٍ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَهُ، وَجَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، اس نے مرنے کے وقت ان کو آزاد کر دیا، اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے تین حصے کیے، ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور باقی چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 4320]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1668، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1020، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4320، 4542، 5075، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1957، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3958، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1364، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2345، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12673، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4561، 4562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20140» «رقم طبعة با وزير 4305»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 17).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح