صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام لزوم العدل في رعيته مع الرأفة بهم والشفقة عليهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا پر عدل و انصاف کے ساتھ نرمی اور شفقت اختیار کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4487
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا " فَلاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ، فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا". فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا". فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا". فَرَضُوا، وَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو زکاۃ کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک شخص کی ان کے ساتھ بحث ہو گئی۔ سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں قصاص دلوائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ چیزیں لے لو (اور اس پر راضی ہو جاؤ)“، لیکن وہ لوگ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ، یہ چیزیں مزید لے لو“، وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم یہ، یہ چیزیں مزید لے لو“، تو وہ اس بات پر راضی ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم راضی ہو گئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4487]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4487، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4792، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4534، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16121، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26598» «رقم طبعة با وزير 4470»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ] قال الشيخ: وثقه المؤلف، انظر «التيسير». وتابعه أحمد (6/ 222) - وغيره -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح