🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام قبول الهدايا من رعيته في الأوقات وبذل الأموال لهم عند فتح الله الدنيا عليهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے رعایا سے مناسب اوقات میں تحائف قبول کرنے اور اللہ کی طرف سے دنیا کی فراخی آنے پر ان پر مال خرچ کرنے کا استحباب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَجُلا كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ". قَالَ أَنَسٌ: وَإِِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَعْطَاهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهُنَّ. قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِي وَلَكِ كَذَا وَكَذَا". فَتَقُولُ: كَلا وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی زمین کی کھجوروں (کی پیداوار) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ اور نضیر کو فتح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا تحفہ واپس کر دیا جو اس نے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے گھر والے مجھے یہ ہدایت کرتے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور آپ سے وہ چیز مانگ لوں جو آپ کسی کو دیتے ہیں یا اس کا کچھ حصہ مانگ لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز دے رہے تھے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہ (کھجوریں یا چیزیں) مجھے عطا کر دیں، تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے کپڑا میری گردن میں ڈالا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ (کھجوریں یا چیزیں) تمہیں نہیں دے سکتے جب کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی مجھے دے چکے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام ایمن تم اسے چھوڑ دو تمہیں یہ، یہ چیزیں ملتی ہیں تو وہ خاتون یہی کہتی رہیں ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (میں اسے نہیں چھوڑوں گی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں (یا چیزوں) سے دس گنا زیادہ یا دس گنا کے قریب چیزیں انہیں عطا کیں (تو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو چھوڑا) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4488»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (1771/ 71).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں