🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام بذل النفس للمهن التي منها صلاح أحوال رعيته-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کی بہتری کے لیے جن محنتوں میں بھلائی ہو ان میں خود حصہ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4531
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ حِينَ وُلِدَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَفَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حِبُّ الأَنْصَارِ التَّمْرُ" . وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں صاحب زادے عبداللہ کی پیدائش پر اسے ساتھ لے کر ایک چادر میں لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت (صدقے کے) اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے کچھ کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے منہ میں ڈالا، انہیں چبایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچے کے منہ میں ڈال دیں، بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انصار کھجوروں سے محبت کرتے ہیں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4531]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1301، 1502، 5470، 5542، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2119، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2283، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4531، 4533، 5629، 7188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2563، 4951، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3565، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7230، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12210» «رقم طبعة با وزير 4514»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں