سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب فِيمَنْ خَرَجَ يُرِيدُ الصَّلاَةَ فَسُبِقَ بِهَا
باب: جو نماز کے ارادہ سے نکلا لیکن اس کی جماعت چھوٹ گئی۔
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، أَعْطَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَجْرِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 564]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا (یعنی سنت کے مطابق کامل وضو) پھر (مسجد کی طرف) گیا مگر لوگوں کو پایا کہ وہ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اللہ عزوجل ایسے بندے کو بھی اتنا ہی اجر عنایت فرماتا ہے جتنا کہ اس کو جس نے جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھی ہو۔ اور یہ ان کے اجروں میں کسی کمی کا باعث نہیں ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الإمامة 52 (856)، (تحفة الأشراف: 14281)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1145)
مشكوة المصابيح (1145)