صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
96. باب طاعة الأئمة - ذكر وصف الراية العمية التي أثبت لمن قتل تحتها بهذا الاسم-
ائمہ کی اطاعت کا بیان - اس اندھی جھنڈے کی صفت کا بیان جس کے نیچے مرنے والے کو موتِ جاہلیت ملتی ہے
حدیث نمبر: 4580
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ شَاكٍ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي حَدِيثَ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ غَيْلانَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْهُ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِي عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، فَقَتْلُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص (حاکم وقت کی) اطاعت سے نکل گیا اور اس نے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور پھر وہ (اسی حالت میں) مر جائے تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص میری امت پر خروج کر کے ہر نیک اور گنہگار کو مارنا شروع کر دیتا ہے، وہ مومن کو چھوڑتا نہیں ہے اور معاہدے (یعنی ذمی کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کو) پورا نہیں کرتا تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی طرح قتل ہوتا ہے اور جو شخص کسی گمراہی کے جھنڈے تلے کسی گروہ کی تائید میں لڑائی کرتا ہے یا کسی گروہ کے حق میں ناراض ہوتا ہے (اور جنگ کرتے ہوئے مارا جاتا ہے) تو اس کا قتل زمانہ جاہلیت کا قتل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4580]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1848، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4580، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4125، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3948، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16708، 21137، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8059» «رقم طبعة با وزير 4561»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (983): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح