صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
133. باب فضل الجهاد - ذكر رجاء نوال الجنان بالثبات تحت أظلة السيوف في سبيل الله-
جہاد کے فضائل کا بیان - اللہ کی راہ میں تلواروں کے سائے تلے ثابت قدم رہنے پر جنت پانے کی امید کا بیان
حدیث نمبر: 4617
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ وَهُوَ بِحِصْنِ الْعَدُوِّ أَوْ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ" . فَقَامَ رَجُلٌ رَثَّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَجَاءَ إِِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَضَى بِسَيْفِهِ قُدُمَا، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، وہ اس وقت دشمن کے قلعے کے پاس تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دشمن کے مدِ مقابل تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ”بے شک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کی حالت کوئی بہت اچھی نہیں تھی، اس نے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میری طرف سے تم سب کو سلام ہو، پھر اس شخص نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ دیا اور اسے ایک طرف رکھ دیا، پھر وہ اپنی تلوار لے کر آگے کی طرف بڑھا اور ان کے ساتھ لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1902، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4617، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2401، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1659، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19847» «رقم طبعة با وزير 4598»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 7): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم