🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

150. باب فضل الجهاد - ذكر أخذ الغازي أجر الخالف أهله من حسناته في القيامة-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت کے دن مجاہد کو اہل و عیال کا خیال رکھنے والے کے اجر کا کچھ حصہ دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4634
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَأُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ إِِلا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: يَا فُلانُ، هَذَا فُلانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: فَمَا ظَنُّكُمْ مَا أَرَى يَدَعُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا" .
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مجاہدین کی خواتین کی حرمت پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی مائیں ہوتی ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو بھی شخص کسی مجاہد کے ساتھ خیانت کرے گا تو اس شخص کو مجاہد کے سامنے رکھا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اے فلاں! یہ فلاں شخص ہے، تم اس کی نیکیوں میں سے جتنی چاہو حاصل کر لو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی طرف توجہ کی اور فرمایا: تمہارا کیا گمان ہے؟ میرا خیال ہے وہ اس کی نیکیوں میں سے کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہنے دے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4634]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1897، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4634، 4635، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2496، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2331، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18652، 18653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23443» «رقم طبعة با وزير 4615»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2255): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں