🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

261. باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الاستحباب للإمام أن يشن الغارة في بلاد أعداء الله الكفرة عند انفجار الصبح-
خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ دشمن کی زمینوں میں غارة صبح کے پھوٹنے پر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ حَتَّى يُصْبِحَ فَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلا، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا، رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمَيَّ لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجُوا عَلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ، وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے خلاف جنگ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرتے تھے جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا جائزہ لیتے تھے کہ اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر اذان کی آواز نہیں سنائی دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، ہم رات کے وقت وہاں پہنچے، جب صبح ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اذان کی آواز نہیں سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہو گیا، یہاں تک کہ میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے۔ وہ لوگ اپنے ٹوکرے اور بیلچے لے کر (قلعے سے) باہر نکلے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور بولے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے، اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ گئے اور ساتھ لشکر بھی ہے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دیکھا تو فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] پھر جب وہ کسی قوم کے میدان میں اترتا ہے تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 371، 610، 947، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 382، 1365، وابن الجارود فى "المنتقى"، 667، 781، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 351، 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4091، 4745، 4746، 5274، 6521، 7212، 7213، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2054، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1115، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1957، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1933، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12138» «رقم طبعة با وزير 4725»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2368)، «تخريج فقه السيرة» (340): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں