سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب الرَّجُلِ يَعْقِدُ الثَّوْبَ فِي قَفَاهُ ثُمَّ يُصَلِّي
باب: آدمی گردن کے پیچھے کپڑے باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 630]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے لوگوں کو دیکھا کہ کپڑوں کی تنگی کے باعث انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں اپنے تہبندوں کے پلوؤں کو اپنی گردنوں میں گرہ لگائی ہوتی تھی جیسے کہ بچوں کی ہوتی ہے، تو ایک شخص نے کہا: ”اے عورتو! تم مردوں سے پہلے اپنے سر نہ اٹھایا کرو۔“ (کہیں کسی کے ستر پر نظر نہ پڑ جائے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، والأذان 136 (814)، والعمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن النسائی/القبلة 16 (767)، (تحفة الأشراف: 4681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (362) صحيح مسلم (441)