صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
351. باب الغنائم وقسمتها - ذكر ما يستحب للإمام أن يقول عند التحام الحرب بأن سلب القتيل يكون لقاتله-
غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جنگ کے شدید موقع پر اعلان کرے کہ مقتول کا سلب (اس کا سامانِ جنگ) قاتل کو ملے گا
حدیث نمبر: 4836
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: " مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلا وَأَخَذَ أَسْلابَهُمْ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَرَبْتُ رَجُلا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهُ، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُسْأَلُ شَيْئًا أَلا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: وَاللَّهِ لا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: صَدَقَ عُمَرُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو، تو اس (کافر) کا ساز و سامان اسے مل جائے گا۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا، انہوں نے ان سب کا ساز و سامان حاصل کر لیا، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک کافر کے کندھے پر وار کیا، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی، تو ایک صاحب بولے: میں نے (اس مقتول کا) ساز و سامان لے لیا ہے، آپ انہیں اس سامان کی طرف سے راضی کر دیں اور وہ سامان مجھے عطا کر دیں (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا خاموش رہتے تھے۔ اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک شیر کو مال فے میں سے کچھ عطا کرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں عطا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر نے ٹھیک کہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1809، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4836، 4838، 4841، 7185، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2606، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2718، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12887، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12240» «رقم طبعة با وزير 4816»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2431).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم