صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
370. باب الغلول - ذكر الإخبار بأن الغال يكون غلوله في القيامة عارا عليه-
الغلول کا بیان - اس بات کی خبر کہ غلول کرنے والا قیامت کے دن اپنی غلول کی وجہ سے رسوائی پائے گا
حدیث نمبر: 4855
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللَّهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ، فَلَمَّا كَفَى اللَّهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوهُمْ، قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ، نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللَّهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنَّا، هُوَ لَنَا، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنْ لا يَنَالَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، قَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ وَالنَّهْبِ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، هُوَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1 الآيَةَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُهُمْ إِذَا خَرَجُوا بَادِينَ الرُّبُعَ، وَيُنَفِّلُهُمْ إِذَا قَفَلُوا الثُّلُثَ، وَقَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبٍ بَعِيرٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلا الْخُمُسِ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ"، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الأَنْفَالَ، وَيَقُولُ:" لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن سے سامنا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا تو مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے ساتھ لڑنے کے لیے ان کے پیچھے گیا دوسرا گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس ٹھہر گیا۔ ایک گروہ نے لشکر اور لوٹنے کے معاملات سنبھال لیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کی طرف سے اطمینان کر دیا اور وہ لوگ واپس آ گئے جو ان کے پیچھے گئے تھے تو انہوں نے کہا: اضافی ادائیگی ہمیں ملے گی، کیونکہ ہم دشمن کے پیچھے گئے تھے اور ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہاں سے دور کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد پہرہ دے رہے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو وہ ہمیں بھی ملے گا کیونکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے تاکہ کہیں کوئی دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دے۔ وہ لوگ جو لشکر اور لوٹنے کے نگہبان تھے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم! تم لوگ اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو یہ ہمیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”لوگ تم سے اضافی ادائیگی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال غنیمت ان کے درمیان تقسیم کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عطیے کے طور پر چیزیں دیتے رہے۔ جب وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تھے تو شروع میں ایک چوتھائی دیا گیا اور جب وہ واپس آ گئے تھے تو انہیں ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیا گیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے پہلو کا بال پکڑ کر ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں مال غنیمت کے طور پر جو کچھ عطا کرتا ہے اس میں سے اس (بال جتنی بھی) کوئی چیز میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا اس لیے تم سوئی اور دھاگہ تک ادا کرو اور خیانت کرنے سے بچنا کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث ہو گی۔ تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے کیونکہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم کو ختم کر دیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اضافی ادائیگی کو ناپسند کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: اہل ایمان میں سے خوش حال لوگ اپنے غریبوں کو یہ دے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4855]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4835»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «تخريج فقه السيرة» (234)، وانظر (4815). تنبيه!! رقم (4815) = (4835) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن