صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
372. باب الغلول - ذكر نفي دخول الجنة عن الغال في سبيل الله جل وعلا-
الغلول کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ راہِ خدا میں غلول کرنے والے کے لیے جنت میں داخلہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 4857
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرٍ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: فُلانٌ شَهِيدٌ، فُلانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالُوا: فُلانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلا، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا، أَوْ عَبَاءَةٍ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: أَنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا الْمُؤْمِنُونَ" ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَنَادَيْتُ أَلا إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَلا الْمُؤْمِنُونَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الإِيمَانَ يَزِيدُ بِالطَّاعَةَ، وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُنْفَى عَنْهُ اسْمُ الإِيمَانِ بِالْمَعْصِيَةِ، إِذَا ارْتَكَبَهَا لا الإِيمَانُ كُلُّهُ، كَمَا أَنَّ الطَّاعَةَ يُطْلَقُ عَلَى مَنْ أَتَى بِهَا اسْمُ الإِيمَانِ، لا الإِيمَانُ كُلُّهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ کہنا شروع کیا فلاں شخص شہید ہے فلاں شخص شہید ہے یہاں تک کہ انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: فلاں شہید ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں میں نے اسے ایک چادر کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک عباء کی وجہ سے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے! تم جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا میں نے اعلان کیا: خبردار! جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے نیکی کرنے کی وجہ سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور گناہ کی وجہ اس میں کمی ہوتی ہے اس میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے بعض اوقات کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کسی مومن شخص سے لفظ ایمان کی نفی کی جاتی ہے اس سے پورے ایمان کی نفی نہیں کی جاتی۔ جس طرح اگر کوئی شخص کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے لیے لفظ ایمان استعمال کیا جاتا ہے اس سے پورا ایمان مراد نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4837»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4829). تنبيه!! رقم (4829) = (4849) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن