صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
384. باب الموادعة والمهادنة - ذكر الشرط الثاني الذي كان في كتاب الصلح بين المصطفى صلى الله عليه وسلم وبين أهل مكة-
موادعہ اور مهادنت کا بیان - رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ مکہ کے درمیان صلح کے مکتوب میں جو دوسرا شرط تھا اس کا ذکر
حدیث نمبر: 4870
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا صَالَحَ قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو: لا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ، اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاتَّبَعْنَاكَ وَلَمْ نُكَذِّبْكَ، اكْتُبْ بِنَسَبِكَ مِنْ أَبِيكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَتَبَ: مَنْ أَتَى مِنْكُمْ رَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ أَتَى مِنَّا تَرَكْنَاهُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُعْطِيهِمْ هَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَتَاهُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَتَانَا مِنْهُمْ فَرَدَدْنَاهُ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب (صلح) حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بسم اللہ الرحمن الرحیم تحریر کرو۔ تو (قریش کے نمائندے) سہیل بن عمرو نے کہا: ہم الرحمن الرحیم سے واقف نہیں ہیں، آپ یہ لکھیں باسمك اللهم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم یہ تحریر کرو: یہ وہ معاہدہ ہے، جو اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، تو سہیل نے کہا: اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب نہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نسب یعنی اپنے والد کے نام کے ساتھ (اپنا اسم گرامی) تحریر کروائیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم محمد بن عبداللہ تحریر کر دو۔ تو انہوں نے (معاہدے میں یہ) تحریر کیا: ”تم (یعنی مشرکین مکہ) میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، ہم اسے تمہیں لوٹا دیں گے اور ہم (مسلمانوں) میں سے جو تمہارے پاس آئے اسے ہم تمہارے پاس ہی رہنے دیں گے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم یہ (اجازت) انہیں دے دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم میں سے جو (مرتد ہو کر) ان کے پاس جائے گا، اسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہے اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، اور اسے ہم لوٹا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی اور راستہ بنا دے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4870]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4850»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم