🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ذكر الخبر المدحض قول من أجاز بيع الأحباس في سبيل الله بعد أن تحبس أو توريثها بعد أن توقف-
وقف کا بیان - وہ خبر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے وقف کے بعد اس کا بیچنا یا وراثت میں دینا جائز قرار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4901
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ 2، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ قَطُّ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُ فِيهَا؟ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى أَنَّهُ لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ، فَتَصَدَّقْ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْغُرَبَاءِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَفِي الضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ" ، قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا، انہوں نے عرض کی: مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھے کیا ہدایت فرماتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے (پھل اور آمدن کو) صدقہ کر دو۔ اس شرط پر کہ اس زمین کو صدقہ نہیں کیا جائے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا اور اسے وراثت میں منتقل نہیں کیا جائے گا، تم (اس کے پھل کو) غریبوں میں، مسافروں میں، غلاموں میں، اللہ کی راہ میں (جہاد پر جانے والوں میں)، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کرو، جو شخص اس کا نگران ہو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے خود کھا لیتا ہے یا کسی دوست کو کھلا دیتا ہے جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں محمد نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2313، 2737، 2764، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 405، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2483، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4899، 4900، 4901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3599، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2878، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1375، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4698» «رقم طبعة با وزير 4881»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2562).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں