سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب الصَّلاَةِ فِي شُعُرِ النِّسَاءِ
باب: مردوں کا عورتوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف ۱؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا»)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 645]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ہمارے (یعنی ازواج مطہرات کے زیر استعمال) کپڑوں میں یا ہمارے لحافوں میں نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔“ عبیداللہ نے کہا کہ «شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا» کے الفاظ میں میرے والد کو شک ہوا ہے (اس لیے لفظ «أَوْ» سے روایت کیا ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 367، (تحفة الأشراف: 16221، 17589، 19296) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح