صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. ذكر البيان بأن قوله فلا شيء له أراد به البائع لا المشتري-
بیع کا بیان - «فلا شيء له» سے مراد بیچنے والا ہے نہ کہ خریدار۔
حدیث نمبر: 4922
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا باغ خریدتا ہے تو اس کا پھل اس شخص کو ملے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا) اور جو شخص کوئی غلام خریدتا ہے، جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4922]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4901»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح